ابنا: علی اصغرسلطانیہ نے آئی اے ای اے کےساتھ ایران کے آئندہ تعاون کے بارے میں العالم ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جب ایران کاایٹمی مسئلہ جو ایک تکنیکی مسئلہ ہے سلامتی کونسل میں پیش کیاگیا تو اس نامعقول اور ناقابل جواز اقدام اور بعض مغربی ممالک کی تاریخی غلطی کی وجہ سے، اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ نے حکومت کواین پی ٹی کےتناظرمیں تعاون تک محدود کردیا۔علی اصغرسلطانیہ نے کہاکہ اس وقت این پی ٹی سےباہر نکلنے یا تحقیقات میں رکاوٹ ڈالنے پر مبنی کوئی موقف نہيں ہے اور آئی اے ای اے کےانسپکٹر قانون کے دائرے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہيں۔دوسری طرف نیویارکر ویکلی کے نامہ نگار سیمو رہرش نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ دو ہزار تین کے بعد سے ایران کےایٹمی پروگرام میں انحراف کاکوئی ٹھوس ثبوت نہيں ملا ہے۔اس امریکی صحافی نےمزید کہاکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی ، ایران کے اس ایجنسی کے رکن کی حیثیت سےاس پرنظر رکھےہوئے ہے اور تمام تنصیبات کااعلان کیاجاچکاہے۔اس امریکی صحافی نےکہا کہ اس نئی رپورٹ میں حل نہ ہونے والےجن اہم مسائل کا ذکر کیاگیاہے وہ ان اطلاعات کی بنیاد پر تھےجو دس ملکوں نےایجنسی کو دی تھیں، اور ہم جانتے ہیں کہ ان میں اکثراطلاعات امریکہ سے اور بالواسطہ طورپر اسرائیل سے ملی ہیں۔سیمور ہرش نےکہاکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےسابق سربراہ محمدالبرادعی، پہلے ہی ان الزامات کی بارہا پوری باریکی سے تحقیقات کرچکے ہيں اور اس کانتیجہ یہ نکلا کہ یہ اطلاعات اس قدرمعتبرنہيں ہیں کہ ان کاجائزہ لیاجائے۔............. /169
20 نومبر 2011 - 20:30
News ID: 279562
ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے علی اصغرسلطانیہ نے کہا ہے کہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی حالیہ رپورٹ اس کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔